---
title: "تہوار کا رش اچانک نہیں آتا"
source: https://www.lskhata.com/blog/eid-se-pehle-stock-tayyar
category: "Stock & money"
language: ur
published: 2026-08-26
reading_time: 6 min
---

# تہوار کا رش اچانک نہیں آتا

_عید والے ہفتے فروخت دگنی ہو جاتی ہے — ہر سال ہوتی ہے۔ پھر بھی زیادہ تر دکانوں میں اسی ہفتے مال ختم ہو جاتا ہے۔_

## In short
- تہوار کا آرڈر تہوار سے پہلے نہیں، اس سے بھی پہلے دینا پڑتا ہے۔
- پچھلے سال کے اسی ہفتے کی فروخت دیکھیں۔ اندازے سے وہ کہیں بہتر ہے۔
- سارا مال نہیں — صرف وہ چند چیزیں جو تہوار میں زیادہ چلتی ہیں۔
- تہوار کے بعد فروخت عام سے بھی نیچے چلی جاتی ہے۔

ہر سال وہی ہوتا ہے۔ عید والے ہفتے دکان میں رش، اور ٹھیک اسی ہفتے سب سے زیادہ مانگ والا مال ختم ہو جاتا ہے۔ پھر سپلائر کو فون کریں تو وہ کہتا ہے اب نہیں دے سکتا۔

یہ بدقسمتی نہیں۔ تہوار کی تاریخ ایک سال پہلے سے معلوم ہے، اور پچھلے سال کیا ہوا تھا وہ بھی آپ کی اپنی بہی میں لکھا ہے۔

_[Figure: اچھال ہر سال ایک ہی جگہ۔ جو بدلتا ہے وہ یہ ہے کہ آپ نے آرڈر کب دیا۔]_

### کام کب شروع ہو

تہوار کی تیاری تہوار سے ایک ہفتہ پہلے شروع ہو تو دیر ہو گئی۔ کام کو تین مرحلوں میں بانٹیں تو آسان ہو جاتا ہے۔

1. **چھ ہفتے پہلے — پچھلا سال دیکھیں** — پچھلے سال اس ہفتے کون سا مال کتنا بکا تھا، یہ نکالیں۔ یہی آپ کے اندازے کی بنیاد ہے۔
2. **چار ہفتے پہلے — آرڈر دیں** — سپلائر کے پاس تب ابھی جگہ ہے۔ دو ہفتے پہلے جائیں تو آپ قطار کے آخر میں ہیں۔
3. **ایک ہفتہ پہلے — گن کر دیکھیں** — مال آیا یا نہیں اور ٹھیک مقدار میں آیا یا نہیں، ملا لیں۔ اس وقت کم نکلے تو ابھی کچھ کیا جا سکتا ہے۔

**سارے مال میں زیادہ نہ خریدیں.** تہوار میں ساری فروخت نہیں بڑھتی، کچھ کی بہت بڑھتی ہے۔ سب میں برابر بڑھا کر خریدیں تو پیسہ اس مال میں پھنستا ہے جو پہلے ہی ٹھیک چل رہا تھا۔

### تہوار کے بعد والا ہفتہ

جو حصہ تقریباً کوئی حساب میں نہیں رکھتا، وہ ہے تہوار کے بعد کی گراوٹ۔ لوگوں نے پہلے ہی خرید لیا ہے، اس لیے اگلے دو ہفتے فروخت عام سے بھی کم ہوتی ہے۔

اس کا مطلب یہ ہے کہ تہوار کے لیے زیادہ خریدا ہوا مال صرف کچھ دن نہیں بیٹھا رہتا — وہ اس وقت بیٹھا رہتا ہے جب فروخت پہلے ہی کم ہے۔ اس لیے زیادہ کا حساب دھیان سے کرنا چاہیے۔

> تہوار میں مال کم پڑنا ایک دن کا نقصان ہے۔ زیادہ پڑنا دو مہینے کا۔

## Common questions

**کتنا پہلے آرڈر دینا چاہیے؟**

عام وقت میں جتنے دن لگتے ہیں، اس کے دگنے مان کر چلیں۔ کیونکہ تہوار سے پہلے سپلائر کے پاس سب کے آرڈر جمع ہو جاتے ہیں، گاڑی نہیں ملتی، اور قطار میں آپ کہاں ہیں یہ آپ کے ہاتھ نہیں۔ جو عام طور پر تین دن میں دیتا ہے، وہ تہوار والے ہفتے چھ دن لگا سکتا ہے۔

**کتنا زیادہ خریدیں، یہ کیسے پتا چلے؟**

پچھلے سال کے اسی ہفتے کی فروخت دیکھیں — یہی واحد بھروسے کے قابل عدد ہے۔ پچھلے سال کا حساب نہ ہو تو اس سال ہی لکھ کر رکھیں، کیونکہ اگلے سال یہی سوال پھر آئے گا۔

**زیادہ خرید لیا جائے تو کیا کریں؟**

تہوار کے فوراً بعد رعایت دے کر نکال دینا اچھا ہے، کیونکہ تب بھی لوگوں کی خریدنے کی عادت چل رہی ہوتی ہے۔ دو مہینے انتظار کر کے رعایت دیں تو وہی مال اور کم قیمت پر بیچنا پڑتا ہے، اور تب تک پیسہ بھی پھنسا رہتا ہے۔
