---
title: "فروخت سے اصل میں کیا بچتا ہے"
source: https://www.lskhata.com/blog/farokht-se-asal-mein-kya-bachta
category: "Stock & money"
language: ur
published: 2026-08-18
reading_time: 6 min
---

# فروخت سے اصل میں کیا بچتا ہے

_دن کی پچیس ہزار فروخت سننے میں اچھی لگتی ہے۔ مگر اس میں سے کتنا آپ کا ہے، یہ الگ عدد ہے — اور وہی اصل ہے۔_

## In short
- فروخت اور نفع ایک چیز نہیں۔ فروخت بڑھا کر بھی نفع گھٹ سکتا ہے۔
- ہر مال کی خرید قیمت لکھ کر رکھیں۔ نہ ہو تو نفع کا حساب ہی نہیں بنتا۔
- جو مال سب سے زیادہ بکتا ہے، ضروری نہیں کہ وہی سب سے زیادہ نفع دے۔
- مہینے میں ایک بار دیکھیں کہ کس مال سے کتنا بچتا ہے۔

"آج کتنی فروخت ہوئی؟" — دکان میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہے، اور اس کا جواب تقریباً کچھ نہیں بتاتا۔

دو دکانیں ایک ہی دن پچیس ہزار کی فروخت کر سکتی ہیں۔ ایک کے ہاتھ چار ہزار بچتے ہیں، دوسری کے اٹھارہ سو۔ باہر سے دونوں دکانیں ایک جیسی چلتی لگتی ہیں۔

_[Figure: قیمت ایک عدد نہیں، دو حصے ہیں۔ بڑا حصہ آپ کا نہیں۔]_

### تین عدد، ایک ہی مال

ہر مال کے ساتھ تین عدد جڑے ہوئے ہیں: آپ نے کتنے میں خریدا، کتنے میں بیچ رہے ہیں، اور فرق کتنا ہے۔ پہلا نہ لکھیں تو تیسرا نکالا نہیں جا سکتا۔

**خرید قیمت بدلتی ہے.** وہی مال تین مہینے پہلے جس قیمت پر آیا تھا، آج اس قیمت پر نہیں آتا۔ نئی کھیپ آئے تو خرید قیمت نئے سرے سے لکھیں، ورنہ آپ کے نفع کا حساب آہستہ آہستہ جھوٹا ہو جاتا ہے — اور پتا بھی نہیں چلتا۔

### پیسہ کہاں سے آ رہا ہے

مہینے میں ایک بار ایک سادہ فہرست بنائیں — کس مال سے کل کتنا بچا۔ فروخت کی مقدار نہیں، جو بچا اس کا حساب۔

| مال | مہینے کی فروخت | فی عدد بچت | کل بچا |
| --- | --- | --- | --- |
| چاول (5 کلو) | 180 پیکٹ | 12 روپے | 2,160 |
| صابن | 420 عدد | 4 روپے | 1,680 |
| تیل | 90 بوتلیں | 35 روپے | 3,150 |
| بسکٹ | 610 پیکٹ | 3 روپے | 1,830 |

یہاں سب سے زیادہ بکا بسکٹ، اور سب سے زیادہ پیسہ آیا تیل سے — جو اس کا ساتواں حصہ ہی بکا۔ یہ فہرست نہ بنائیں تو آپ کا دھیان بسکٹ پر ہی رہتا۔

> کیا زیادہ بکتا ہے یہ آپ کو پتا چل جاتا ہے۔ کیا زیادہ بچاتا ہے یہ حساب کیے بغیر پتا نہیں چلتا۔

### اس حساب سے باہر

یہ فرق ابھی آپ کا نفع نہیں۔ اس میں سے کرایہ، بجلی، تنخواہ، آنا جانا — سب جائے گا۔ وہ کسی ایک مال سے جڑے نہیں، اس لیے انہیں الگ سے مہینے کے حساب میں دیکھنا پڑتا ہے۔

پھر بھی یہ قدم پہلے چاہیے۔ مال کا حساب ٹھیک نہ ہو تو مہینے کا حساب کر کے بھی پتا نہیں چلتا کہ نفع کہاں جا رہا ہے۔

## Common questions

**خرید قیمت نہ لکھیں تو نہیں چلے گا؟**

چلے گا، مگر تب آپ کو صرف یہ پتا ہوگا کہ کتنا پیسہ آیا، کتنا بچا پتا نہیں ہوگا۔ دو دکانیں ایک جتنی فروخت کر کے بالکل مختلف حالت میں ہو سکتی ہیں، صرف خرید قیمت کے فرق سے۔ خرید قیمت وہ ایک عدد ہے جس کے بغیر باقی سارا حساب اندازہ بن جاتا ہے۔

**زیادہ بکنے والے مال میں ہی زیادہ نفع ہوتا ہے نا؟**

اکثر نہیں۔ جو مال سب لیتے ہیں، اس کی قیمت سب کو معلوم ہے، اس لیے اس میں نفع کم ہی رکھنا پڑتا ہے۔ جو مال کم چلتا ہے، اس میں کئی بار زیادہ بچتا ہے۔ مہینے کے آخر میں دیکھیں تو اکثر دکھتا ہے کہ سب سے زیادہ پیسہ اس مال سے آیا جس کے بارے میں آپ نے سوچا ہی نہیں تھا۔

**رعایت دیں تو کیا ہوتا ہے؟**

رعایت سیدھی آپ کے حصے سے جاتی ہے، فروخت کے حصے سے نہیں۔ جس مال میں آپ کے ستر روپے بچتے ہیں، اس میں پچاس کی رعایت دیں تو آپ کے بیس بچے — رعایت قیمت کا ایک حصہ لگتی ہے مگر اصل میں وہ آپ کے نفع کا تقریباً سارا حصہ ہے۔
