---
title: "مال ختم ہونے سے پہلے منگوانے کا اصول"
source: https://www.lskhata.com/blog/maal-khatam-hone-se-pehle-order
category: "Stock & money"
language: ur
published: 2026-08-16
reading_time: 6 min
---

# مال ختم ہونے سے پہلے منگوانے کا اصول

_جس دن شیلف خالی ہو اس دن آرڈر کریں تو دیر ہو گئی۔ ہر مال کی ایک حد ہونی چاہیے، جس پر پہنچتے ہی آرڈر۔_

## In short
- خالی ہونے کا دن نہیں، ایک حد طے کریں — اس پر پہنچتے ہی آرڈر۔
- حد دو باتوں پر منحصر ہے: دن میں کتنا بکتا ہے، اور مال آنے میں کتنے دن لگتے ہیں۔
- جو مال سب سے زیادہ چلتا ہے، صرف اسی کے لیے حد طے کریں تو بیشتر کام ہو جاتا ہے۔
- شیلف خالی رہنے کا مطلب صرف ایک فروخت کا نقصان نہیں — گاہک دوسری دکان ڈھونڈ لیتا ہے۔

ایک مال ختم ہو جائے تو کیا ہوتا ہے یہ سب جانتے ہیں — گاہک واپس چلا جاتا ہے۔ جو کم معلوم ہے، وہ یہ کہ وہ کہاں جاتا ہے۔ وہ ساتھ والی دکان پر جاتا ہے، اور وہاں جا کر دیکھتا ہے کہ جگہ بری نہیں۔

ایک فروخت کھونا چھوٹا نقصان ہے۔ ایک باقاعدہ گاہک کو دوسری دکان دکھا دینا اس سے کہیں بڑا ہے۔

_[Figure: لکیر ہی فیصلہ کرتی ہے۔ خالی شیلف دیکھ کر فیصلہ کریں تو وقت نہیں بچتا۔]_

### حد کا مطلب کیا ہے

حد وہ مقدار ہے، جس پر پہنچ کر آرڈر کریں تو مال ختم ہونے سے پہلے نیا مال آ جاتا ہے۔ یہ صفر نہیں، اور ہونی بھی نہیں چاہیے — صفر کا مطلب ہے پہلے ہی دیر۔

1. **دن میں کتنا چلتا ہے دیکھیں** — پچھلے مہینے کی فروخت تقسیم کریں۔ اندازے سے نہیں — اندازہ تقریباً ہمیشہ کم ہوتا ہے۔
2. **مال آنے میں کتنے دن لگتے ہیں لکھیں** — آرڈر والے دن سے مال ہاتھ آنے والے دن تک۔ سپلائر جو کہتا ہے وہ نہیں، اصل میں جو لگتا ہے وہ۔
3. **ضرب دیں، پھر کچھ جوڑیں** — دن کی فروخت × دنوں کی تعداد۔ ساتھ دو تین دن زیادہ، کیونکہ دیر ہوتی ہے۔
4. **عدد لکھ کر رکھیں** — یاد رکھنے کی چیز نہیں۔ ایپ میں مال کے ساتھ لکھیں، تاکہ کوئی بھی دیکھے تو سمجھ آ جائے۔

**عید سے پہلے حد بڑھائیں.** عید سے پہلے والے ہفتے میں دن کی فروخت دگنی ہو جائے تو حد بھی دگنی ہونی چاہیے۔ سارا سال ایک ہی حد رکھیں تو ٹھیک رش کے وقت ہی شیلف خالی ہوتا ہے۔

### کون سا مال پہلے

سارے مال کی ایک جیسی اہمیت نہیں۔ جو روز چلتا ہے اور جو نہ ملے تو گاہک دوسری دکان جاتا ہے — وہ پہلے۔ جو مہینے میں دو بار چلتا ہے، وہ ختم ہو تو کوئی نہیں جاتا۔

| مال کی قسم | حد چاہیے؟ | کیوں |
| --- | --- | --- |
| روز چلتا ہے، سب لیتے ہیں | ضرور | نہ ہو تو گاہک چلا جاتا ہے |
| روز چلتا ہے، قیمت زیادہ | ضرور | پیسہ بھی پھنستا ہے |
| کبھی کبھار چلتا ہے | ضرورت نہیں | آنکھ کا اندازہ کافی ہے |
| خراب ہو جاتا ہے | حد کم رکھیں | زیادہ رکھیں تو پھینکنا پڑتا ہے |

### سپلائر دیر کرے تو

حد طے کرتے وقت سپلائر کا وعدہ نہیں، اس کی عادت پکڑیں۔ جو کہتا ہے دو دن میں دوں گا مگر چار دن لگاتا ہے، اس کے لیے چار دن کا حساب۔ یہ شکایت نہیں، حساب ہے۔

اگر ایک سپلائر مسلسل دیر کرتا ہے اور اس کی وجہ سے آپ کو بہت زیادہ مال روکنا پڑتا ہے، تو اس دیر کی ایک قیمت ہے — وہ آپ کا پھنسا ہوا پیسہ ہے۔ یہ معلوم ہو تو دوسرا سپلائر ڈھونڈنے کا فیصلہ آسان ہو جاتا ہے۔

## Common questions

**حد کتنی ہو، یہ کیسے نکالیں؟**

دن میں اوسطاً کتنا بکتا ہے، اسے مال آنے میں لگنے والے دنوں سے ضرب دیں، اور اس میں کچھ دن اور جوڑیں۔ دن میں دس پیکٹ چلیں اور مال آنے میں تین دن لگیں تو تیس پیکٹ پر آرڈر کرنا چاہیے — اور حفاظت کے لیے چالیس رکھنا اچھا ہے، کیونکہ سپلائر ہمیشہ وقت پر نہیں آتے۔

**کیا سارے مال کے لیے یہ ممکن ہے؟**

ممکن نہیں، اور ضرورت بھی نہیں۔ زیادہ تر دکانوں میں تھوڑے سے مال سے ہی بیشتر فروخت آتی ہے۔ ان بیس تیس چیزوں کے لیے حد طے کریں۔ باقی کے لیے آنکھ کا اندازہ کافی ہے، کیونکہ وہ ختم ہوں تو نقصان بھی کم ہے۔

**زیادہ مال خرید کر رکھنے میں کیا حرج ہے؟**

پیسہ مال میں پھنس جاتا ہے۔ ایک لاکھ کا مال شیلف پر بیٹھا ہو تو ایک لاکھ آپ کے ہاتھ میں نہیں — ادھار نہیں چکا سکتے، نیا کچھ نہیں لا سکتے۔ اوپر سے جو مال خراب ہوتا ہے یا پرانا پڑ جاتا ہے، اس کا نقصان الگ۔ حد کا سارا مقصد انہی دونوں کے بیچ جگہ ڈھونڈنا ہے۔
