---
title: "رقم نہیں، ادھار کی عمر دیکھیں"
source: https://www.lskhata.com/blog/udhaar-ki-umar-dekh-kar-wasooli
category: "Running a shop"
language: ur
published: 2026-08-14
reading_time: 5 min
---

# رقم نہیں، ادھار کی عمر دیکھیں

_سب سے بڑا بقایا عام طور پر نیا ہوتا ہے، اور نیا پیسہ خود آ جاتا ہے۔ جو چھ مہینے پرانا ہے، وہ ہر ہفتے مزید دور ہوتا جاتا ہے۔_

## In short
- کل بقایا کی فہرست کام کی نہیں۔ بقایا کو عمر کے حساب سے بانٹیں۔
- سب سے پرانا پیسہ پہلے وصول کریں، چاہے رقم چھوٹی ہو۔
- نئے بڑے بقایا کے پیچھے نہ بھاگیں — وہ عام طور پر خود آ جاتا ہے۔
- تین حصے کافی ہیں: اس ہفتے، اس مہینے، اس سے پرانا۔

زیادہ تر دکاندار بقایا کی فہرست بڑے سے چھوٹے کی طرف لگا کر دیکھتے ہیں۔ اوپر جس کا نام ہو، اسی کو پہلے فون۔ یہ فطری لگتا ہے، اور یہی غلط جگہ وقت لگانے کا سب سے عام طریقہ ہے۔

کیونکہ بڑا بقایا عام طور پر نیا ہوتا ہے۔ جس گاہک نے پچھلے ہفتے پانچ ہزار کا مال لیا، اس کا نام فہرست کے اوپر ہوگا — مگر وہ پیسہ دے گا، کیونکہ اسے واقعہ یاد ہے اور اس کا آنا جانا چالو ہے۔

_[Figure: سب سے چھوٹا ستون ہی اہم ہے۔ بڑا خود آ جائے گا۔]_

### تین حصے، اس سے زیادہ نہیں

حساب دان ادھار کو کئی حصوں میں بانٹتے ہیں۔ دکان کے لیے تین کافی ہیں، کیونکہ تین سے زیادہ حصے ہوں تو آپ اسے دیکھیں گے ہی نہیں۔

- اس ہفتے — کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، عام بات ہے۔
- اس مہینے — ایک ہلکی یاد دہانی کافی ہے۔
- اس سے پرانا — آپ کا وقت یہیں جانا چاہیے۔

تیسرا حصہ تقریباً ہمیشہ رقم میں سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اتنے دن نظرانداز رہا۔

### پرانا پیسہ کیوں جاتا ہے

پیسہ اچانک نہیں جاتا، آہستہ آہستہ جاتا ہے۔ پہلے گاہک واقعہ بھول جاتا ہے — کیا لیا تھا، کتنا تھا۔ پھر وہ دکان پر آنا کم کر دیتا ہے، کیونکہ بقایا ہو تو آنے میں جھجک ہوتی ہے۔ پھر وہ دوسری دکان پر جانے لگتا ہے۔ آخر میں آپ پیسہ بھی کھوتے ہیں اور گاہک بھی۔

> پرانا ادھار صرف پیسہ نہیں، ایک گاہک بھی ہے۔

**تاریخ کے بغیر عمر نہیں ہوتی.** ہر ادھار تاریخ کے ساتھ لکھیں۔ تاریخ نہ ہو تو چھ مہینے بعد آپ کو پتا ہوگا کہ کتنا بقایا ہے، مگر کب کا ہے پتا نہیں ہوگا — اور تب یہ ساری تقسیم ہی ممکن نہیں۔

### ہفتے میں ایک بار، پندرہ منٹ

ہفتے کا ایک دن طے کریں — کئی لوگوں کے لیے منگل اچھا ہے، کیونکہ ہفتے کے آخر کا رش نہیں ہوتا۔ فہرست عمر کے حساب سے دیکھیں، سب سے پرانے پانچ چنیں، اور انہی کو فون کریں۔ پانچ سے زیادہ نہیں — زیادہ ہوں تو کام بڑا لگتا ہے اور اگلے ہفتے ہوتا ہی نہیں۔

ہفتے میں پانچ کا مطلب سال میں دو سو ساٹھ۔ زیادہ تر چھوٹی دکانوں کے کل ادھار والے گاہک اس سے کم ہوتے ہیں۔

## Common questions

**پرانا چھوٹا پیسہ وصول کرنے میں وقت ضائع نہیں ہوگا؟**

الٹا ہوتا ہے۔ نیا بڑا بقایا عام طور پر خود آ جاتا ہے، کیونکہ گاہک کو یاد ہے اور دکان پر آنا جانا بھی چل رہا ہے۔ چھ مہینے پرانا پیسہ ہر ہفتے آنے کا امکان کھوتا ہے — گاہک بھول جاتا ہے، آنا کم ہوتا ہے، اور ایک دن رشتہ ہی نہیں رہتا۔ اس لیے وقت وہاں جانا چاہیے جہاں دیر واقعی پیسہ کھو دیتی ہے۔

**کتنا پرانا ہو تو مان لیں کہ اب نہیں آئے گا؟**

یہ ماننے کی بات نہیں، دیکھنے کی بات ہے۔ آپ کی اپنی بہی ہی بتا دے گی — پچھلے سال کا کون سا بقایا آخر آیا اور کون سا نہیں آیا، یہ دیکھ کر آپ کی دکان کا طریقہ سمجھ آتا ہے۔ پرچون کی دکان اور کپڑے کی دکان کا حساب ایک نہیں۔

**کیا گاہک کو بتائیں کہ اس کا پیسہ پرانا ہو گیا ہے؟**

سیدھا کہنے کی ضرورت نہیں، مگر تاریخ بتانا اچھا ہے۔ "پچھلے مہینے تیرہ تاریخ کے بارہ سو" سن کر گاہک کو واقعہ یاد آ جاتا ہے۔ "آپ کا بہت بقایا ہے" سن کر اسے صرف شرمندگی ہوتی ہے، اور شرمندگی پیسہ نہیں لاتی۔
