Skip to content
Khataby Lacspace
دکان چلانا

اُدھار کی وصولی کا صحیح طریقہ: رشتہ بھی رہے، پیسہ بھی آئے

اُدھار مانگنا جھگڑا بن جاتا ہے کیونکہ اس کا کوئی طے شدہ ترتیب نہیں ہوتا۔ یہی وہ ترتیب ہے — سات دن، پندرہ دن، تیس دن۔

6 منٹ کا مطالعہ

ہر بار وہی ترتیبدن 7ہلکی یاد دہانیدن 15تاریخ طے کریںدن 30آمنے سامنےادا ہو گیاہر بار وہی ترتیب

مختصراً

  • وصولی موڈ پر نہیں، طے شدہ ترتیب پر چلتی ہے — ساتویں دن یاد دہانی، پندرہویں دن تاریخ، تیسویں دن آمنے سامنے۔
  • پہلا پیغام مطالبہ نہیں، صرف حساب کی اطلاع ہوتا ہے۔ اسی لیے وہ کام کرتا ہے۔
  • کل رقم نہیں، اُدھار کی عمر دیکھیے۔ سب سے پرانا پہلے وصول کیجیے۔
  • ہر گاہک کا فون نمبر کھاتے میں ہونا چاہیے۔ نمبر نہ ہو تو یاد دلانا ہی ٹکراؤ بن جاتا ہے۔

اُدھار دینا دکان کا حصہ ہے۔ جو دکاندار بالکل اُدھار نہیں دیتا، وہ اپنے آدھے مستقل گاہک برابر والی دکان کو دے دیتا ہے۔ اصل دقت اُدھار دینے میں نہیں ہے — وہ واپس مانگنے میں ہے، اور وہ بھی اس لیے کہ زیادہ تر دکانوں میں مانگنے کا کوئی طے شدہ طریقہ ہی نہیں ہوتا۔

جب طریقہ طے نہیں ہوتا تو وصولی موڈ پر چلتی ہے۔ مہینوں کچھ نہیں کہا جاتا، پھر کسی دن پیسے کی تنگی میں سیدھا تقاضا ہو جاتا ہے۔ گاہک کے لیے یہ اچانک آیا ہوا الزام ہے، آپ کے لیے تین مہینے کا جمع ہوا غصہ۔ دونوں اپنی جگہ صحیح ہیں، اور رشتہ وہیں بگڑتا ہے۔

ایک ہی ترتیب، ہر گاہک کے لیے۔ یہی اسے آپ کے غصے سے الگ کرتی ہے۔تین بڑھتی ہوئی سیڑھیاں — ساتویں دن ہلکی یاد دہانی، پندرہویں دن تاریخ طے، تیسویں دن آمنے سامنے، اور آخر میں ادائیگی کا نشان۔دن 7ہلکی یاد دہانیدن 15تاریخ طے کریںدن 30آمنے سامنےادا ہو گیاہر بار وہی ترتیب
ایک ہی ترتیب، ہر گاہک کے لیے۔ یہی اسے آپ کے غصے سے الگ کرتی ہے۔

تین مرحلے، ہر ایک کا الگ کام

  1. 1

    دن ۷ — صرف اطلاع

    رقم اور تاریخ پر مشتمل ایک چھوٹا پیغام، کسی مطالبے کے بغیر۔ "السلام علیکم، ۴ تاریخ کے ₹۱,۲۰۰ باقی ہیں۔ شکریہ۔" بس اتنا۔ زیادہ تر پیسہ اسی مرحلے پر آ جاتا ہے، کیونکہ اصل وجہ بھول جانا ہوتی ہے، نہ دینے کا ارادہ نہیں۔

  2. 2

    دن ۱۵ — تاریخ طے کیجیے

    اب پیسے کا نہیں، تاریخ کا سوال پوچھیے: "کب تک ہو پائے گا؟" اس سے گاہک ہاں یا نہ پر نہیں، ایک دن بتانے پر آتا ہے۔ جو تاریخ وہ خود بتائے، اسے کھاتے میں لکھ لیجیے — اگلی بار بات اسی تاریخ سے شروع ہو گی۔

  3. 3

    دن ۳۰ — آمنے سامنے

    تیس دن کے بعد پیغام کی جگہ ملاقات، اور وہ بھی تنہائی میں — دوسرے گاہکوں کے سامنے کبھی نہیں۔ یہاں مقصد پوری رقم نہیں، کوئی حصہ اور ایک صاف منصوبہ ہے۔ آج آدھا اور اگلے ہفتے آدھا، تاریخ کے ساتھ، کچھ نہ آنے سے کہیں بہتر ہے۔

  4. 4

    جو آئے، اسی وقت درج کیجیے

    جو بھی آئے اسی وقت کھاتے میں چڑھائیے اور گاہک کو اسکرین دکھا دیجیے۔ جو رقم دونوں نے اسی دن دیکھ لی، وہ بعد میں بحث کا موضوع نہیں بنتی۔

کل رقم نہیں، عمر دیکھیے

کتنا پرانامطلب کیاکیا کیجیے
۰ – ۳۰ دنعام کاروبارخاص کچھ نہیں، بس درج رہے
۳۱ – ۶۰ دنبھول گیا ہےتاریخ طے کرائیے
۶۱ – ۹۰ دنٹال رہا ہےآمنے سامنے، کوئی حصہ لیجیے
۹۰ دن سے اوپرخود بخود نہیں آئے گاقسطیں طے کیجیے، نیا اُدھار روکیے

دھیان رکھیے کہ سب سے بڑی رقم اکثر سب سے پرانی نہیں ہوتی۔ ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھنا ہی وہ جگہ ہے جہاں زیادہ تر دکاندار غلط گاہک کو فون کر بیٹھتے ہیں۔

کھاتہ ایپ میں ہر گاہک کا بقایا اور اس کی تاریخ دونوں درج رہتے ہیں، اس لیے یہ تقسیم ہاتھ سے جوڑے بغیر ہو جاتی ہے۔ اگر آپ ابھی کاغذ کے کھاتے پر ہیں تو ایک کاغذ پر یہی چار خانے بنا لیجیے — طریقہ وہی ہے، محنت تھوڑی زیادہ۔

نمبر کے بغیر یاد دلانا ٹکراؤ ہے

یہ وہ چیز ہے جو سب سے زیادہ چھوٹتی ہے۔ اگر گاہک کا فون نمبر آپ کے پاس نہیں ہے تو یاد دلانے کا اکلوتا راستہ یہ ہے کہ آپ اس کے دکان پر آنے کا انتظار کریں اور تب کہیں۔ یعنی ہر یاد دہانی کسی اور کے سامنے، اور کسی ایسے موقع پر جب وہ کچھ خریدنے آیا تھا۔

نمبر ہونے پر وہی بات تنہائی میں، بغیر گواہ کے، اور اُس وقت ہوتی ہے جب وہ جیب دیکھ سکتا ہے۔ اسی لیے نمبر پوچھنے کی سب سے اچھی گھڑی وہی ہے جب آپ پہلی بار اُدھار درج کر رہے ہوں — اُس وقت کوئی منع نہیں کرتا۔

نمبر اُدھار کا حصہ ہے، گاہک کی معلومات کا نہیں۔

اس ہفتے صرف اتنا کیجیے: اپنے دس سب سے پرانے بقایا چھانٹیے، ہر ایک کو وہی چھوٹا اطلاعی پیغام بھیجیے، اور جو جواب آئے اسے تاریخ کے ساتھ درج کیجیے۔ اگلے ہفتے آپ کے پاس دو چیزیں ہوں گی جو آج نہیں ہیں — کچھ پیسہ، اور یہ معلومات کہ کون جواب دیتا ہے اور کون نہیں۔ دوسری چیز پہلی سے زیادہ کام آئے گی۔

عام سوالات

اُدھار مانگنے کا صحیح وقت کون سا ہے؟

جو بھی ہو، وہ طے شدہ ہونا چاہیے اور ہر گاہک کے لیے یکساں ہونا چاہیے۔ زیادہ تر دکانوں کے لیے تین مرحلے ٹھیک بیٹھتے ہیں — سودے کے سات دن بعد ایک ہلکی یاد دہانی، پندرہویں دن ادائیگی کی تاریخ طے کرنا، اور تیسویں دن آمنے سامنے بات۔ طے شدہ ترتیب کا اصل فائدہ یہ ہے کہ گاہک اسے آپ کا غصہ نہیں، دکان کا قاعدہ سمجھتا ہے۔

بار بار یاد دلانے سے گاہک ناراض ہو کر چلا جائے گا؟

ناراضی یاد دلانے سے نہیں آتی، اچانک اور غیر مساوی سلوک سے آتی ہے۔ جو گاہک تین مہینے کچھ نہ سنے اور پھر سیدھا تقاضا دیکھے، وہ ضرور برا مانے گا۔ جسے ہر بار ساتویں دن وہی سیدھا پیغام جاتا ہے، اس کے لیے یہ دکان کا معمول ہے۔

پہلے کس سے وصول کریں — جس کا سب سے زیادہ بقایا ہے یا جو سب سے پرانا ہے؟

سب سے پرانے سے۔ بڑی رقم اگر نئی ہے تو عام طور پر آ جاتی ہے؛ چھوٹی رقم اگر چھ ماہ پرانی ہے تو ہر گزرتے ہفتے کے ساتھ اس کے آنے کا امکان کم ہوتا جاتا ہے۔ اسی لیے کل بقایا دیکھ کر فیصلہ کرنا ٹھیک نہیں — اسے عمر کے حساب سے بانٹ کر دیکھیے۔

اگر گاہک کہے کہ اس نے پیسے دے دیے تھے تو؟

یہ تبھی بحث بنتی ہے جب دونوں طرف الگ الگ ریکارڈ ہوں۔ ہر لین دین اسی وقت درج کیجیے اور رقم بول کر گاہک کو اسکرین دکھا دیجیے۔ جو حساب دونوں نے اسی دن دیکھ لیا ہو، اس پر چھ ماہ بعد جھگڑا بہت کم ہوتا ہے۔

کھاتہ ایپ مفت ہے

بلنگ، اُدھار کھاتہ، اسٹاک اور رپورٹیں — سب آپ کے فون پر۔ کارڈ نہیں، منسوخ کرنے کو کچھ نہیں۔

دیکھیں آپ کو کیا ملتا ہے

اُدھار وصولیبقایاکھاتہدکانگاہک

آگے پڑھیں

تمام مضامین