ہر سال وہی ہوتا ہے۔ عید والے ہفتے دکان میں رش، اور ٹھیک اسی ہفتے سب سے زیادہ مانگ والا مال ختم ہو جاتا ہے۔ پھر سپلائر کو فون کریں تو وہ کہتا ہے اب نہیں دے سکتا۔
یہ بدقسمتی نہیں۔ تہوار کی تاریخ ایک سال پہلے سے معلوم ہے، اور پچھلے سال کیا ہوا تھا وہ بھی آپ کی اپنی بہی میں لکھا ہے۔
کام کب شروع ہو
تہوار کی تیاری تہوار سے ایک ہفتہ پہلے شروع ہو تو دیر ہو گئی۔ کام کو تین مرحلوں میں بانٹیں تو آسان ہو جاتا ہے۔
- 1
چھ ہفتے پہلے — پچھلا سال دیکھیں
پچھلے سال اس ہفتے کون سا مال کتنا بکا تھا، یہ نکالیں۔ یہی آپ کے اندازے کی بنیاد ہے۔
- 2
چار ہفتے پہلے — آرڈر دیں
سپلائر کے پاس تب ابھی جگہ ہے۔ دو ہفتے پہلے جائیں تو آپ قطار کے آخر میں ہیں۔
- 3
ایک ہفتہ پہلے — گن کر دیکھیں
مال آیا یا نہیں اور ٹھیک مقدار میں آیا یا نہیں، ملا لیں۔ اس وقت کم نکلے تو ابھی کچھ کیا جا سکتا ہے۔
تہوار کے بعد والا ہفتہ
جو حصہ تقریباً کوئی حساب میں نہیں رکھتا، وہ ہے تہوار کے بعد کی گراوٹ۔ لوگوں نے پہلے ہی خرید لیا ہے، اس لیے اگلے دو ہفتے فروخت عام سے بھی کم ہوتی ہے۔
اس کا مطلب یہ ہے کہ تہوار کے لیے زیادہ خریدا ہوا مال صرف کچھ دن نہیں بیٹھا رہتا — وہ اس وقت بیٹھا رہتا ہے جب فروخت پہلے ہی کم ہے۔ اس لیے زیادہ کا حساب دھیان سے کرنا چاہیے۔
تہوار میں مال کم پڑنا ایک دن کا نقصان ہے۔ زیادہ پڑنا دو مہینے کا۔