مہینہ ختم ہونے کے بعد زیادہ تر دکانداروں کو پتا ہوتا ہے کہ مہینہ اچھا گزرا یا برا۔ پوچھیں تو کہیں گے "ٹھیک ٹھاک" یا "اس بار تھوڑا کم"۔ مگر کتنا اچھا، یا پچھلے مہینے سے کتنا کم — یہ نہیں بتا سکتے۔
یہ فرق ضروری ہے، کیونکہ احساس سے فیصلے نہیں کیے جا سکتے۔ نیا ملازم رکھوں یا نہ، دکان بڑی کروں یا نہ، کرایہ بڑھے تو جھیل سکوں گا یا نہیں — ان کے جواب عدد میں ہوتے ہیں۔
وہ تین عدد
- 1
کل فروخت
مہینے میں کتنے روپے کا مال گیا۔ نقد، آن لائن اور ادھار — تینوں اس میں۔
- 2
کل خرچ
مال کی خرید، کرایہ، بجلی، تنخواہ، آنا جانا۔ اپنے لیے لیا ہوا پیسہ بھی یہیں۔
- 3
جو بچا
پہلے میں سے دوسرا نکالیں۔ یہی مہینے کا جواب ہے۔
ایک مہینہ کچھ نہیں بتاتا
ایک مہینے کا عدد دیکھ کر کچھ سمجھ نہیں آتا، کیونکہ موازنے کے لیے کچھ نہیں ہے۔ تین مہینے ساتھ ساتھ رکھیں تب ہی سوال بنتے ہیں — فروخت اتنی ہی ہے، مگر بچت کیوں گھٹ رہی ہے؟
| جون | جولائی | اگست | |
|---|---|---|---|
| فروخت | 4,20,000 | 4,35,000 | 4,40,000 |
| خرچ | 3,60,000 | 3,85,000 | 4,05,000 |
| بچا | 60,000 | 50,000 | 35,000 |
یہاں ہر مہینے فروخت بڑھ رہی ہے۔ کوئی بھی کہے گا کہ دکان اچھی چل رہی ہے۔ مگر جو بچ رہا ہے وہ تین مہینوں میں تقریباً آدھا ہو گیا ہے، اور یہ صرف تین مہینے ساتھ ساتھ رکھنے پر ہی دکھتا ہے۔
فروخت بڑھے اور بچت گھٹے — یہ وہ خبر ہے جو دیر سے معلوم ہو تو بچائی نہیں جا سکتی۔
جو بچا وہ ہاتھ کا پیسہ نہیں
مہینے کے آخر میں تیس ہزار بچے کا مطلب یہ نہیں کہ تیس ہزار آپ کی جیب میں ہیں۔ اس میں سے کچھ گاہک کے پاس ادھار ہے، کچھ شیلف پر مال ہے۔ یہ دونوں عدد بھی مہینے کے آخر میں دیکھ لینے چاہییں — پھر سمجھ آتا ہے کہ پیسہ اصل میں کہاں ہے۔