دس سال پہلے دکان کا حساب آسان تھا — جو بکا وہ گلّے میں ہے۔ اب فروخت کا آدھا حصہ فون میں آتا ہے، اور گلّہ گن کر دن کا حساب نہیں بنتا۔
اس سے جو مسئلہ بنتا ہے وہ پیسہ کھونے کا نہیں، الجھن کا ہے۔ دن کے آخر میں گلّہ گن کر لگتا ہے کہ فروخت کم ہوئی، مگر ہوئی نہیں — پیسہ دوسرے راستے آیا ہے۔
بل بناتے وقت ہی لکھیں
پیسہ کیسے آیا یہ بل بناتے وقت ہی لکھنا سب سے آسان ہے، کیونکہ تب آپ کو معلوم ہوتا ہے۔ دن کے آخر میں چالیس بلوں میں سے کون سا نقد تھا یہ کوئی یاد نہیں رکھ سکتا۔
- نقد — گلّے میں آیا، دن کی گنتی میں رہے گا۔
- آن لائن — بینک میں آیا، گلّے میں نہیں۔
- ادھار — ابھی کہیں نہیں آیا، گاہک کے کھاتے میں گیا۔
یہ تین حصے ہی کافی ہیں۔ اس سے زیادہ بانٹیں تو بل بنانے میں وقت لگتا ہے، اور رش کے وقت وہی کام بند کروا دیتا ہے۔
پیغام حساب نہیں
فون میں پیسہ آنے کا پیغام آتے ہی کئی لوگ مان لیتے ہیں کہ کام ہو گیا۔ مگر وہ پیغام صرف یہ بتاتا ہے کہ پیسہ آیا — کس سے، کس بل کے لیے، پورا یا تھوڑا، یہ نہیں بتاتا۔
مہینے کے آخر میں کیا دیکھیں
مہینے کے آخر میں دیکھیں کہ کل فروخت کا کتنا حصہ کس راستے آیا۔ یہ حصہ آہستہ آہستہ بدلتا ہے، اور اس کا پتا ہونا کام کا ہے — اگر آن لائن بڑھتا جائے تو گلّے میں کم نقد رکھنے سے بھی کام چل جاتا ہے، اور کھلے کی جھنجھٹ بھی گھٹتی ہے۔