زیادہ تر دکاندار بقایا کی فہرست بڑے سے چھوٹے کی طرف لگا کر دیکھتے ہیں۔ اوپر جس کا نام ہو، اسی کو پہلے فون۔ یہ فطری لگتا ہے، اور یہی غلط جگہ وقت لگانے کا سب سے عام طریقہ ہے۔
کیونکہ بڑا بقایا عام طور پر نیا ہوتا ہے۔ جس گاہک نے پچھلے ہفتے پانچ ہزار کا مال لیا، اس کا نام فہرست کے اوپر ہوگا — مگر وہ پیسہ دے گا، کیونکہ اسے واقعہ یاد ہے اور اس کا آنا جانا چالو ہے۔
تین حصے، اس سے زیادہ نہیں
حساب دان ادھار کو کئی حصوں میں بانٹتے ہیں۔ دکان کے لیے تین کافی ہیں، کیونکہ تین سے زیادہ حصے ہوں تو آپ اسے دیکھیں گے ہی نہیں۔
- اس ہفتے — کچھ کرنے کی ضرورت نہیں، عام بات ہے۔
- اس مہینے — ایک ہلکی یاد دہانی کافی ہے۔
- اس سے پرانا — آپ کا وقت یہیں جانا چاہیے۔
تیسرا حصہ تقریباً ہمیشہ رقم میں سب سے چھوٹا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ وہ اتنے دن نظرانداز رہا۔
پرانا پیسہ کیوں جاتا ہے
پیسہ اچانک نہیں جاتا، آہستہ آہستہ جاتا ہے۔ پہلے گاہک واقعہ بھول جاتا ہے — کیا لیا تھا، کتنا تھا۔ پھر وہ دکان پر آنا کم کر دیتا ہے، کیونکہ بقایا ہو تو آنے میں جھجک ہوتی ہے۔ پھر وہ دوسری دکان پر جانے لگتا ہے۔ آخر میں آپ پیسہ بھی کھوتے ہیں اور گاہک بھی۔
پرانا ادھار صرف پیسہ نہیں، ایک گاہک بھی ہے۔
ہفتے میں ایک بار، پندرہ منٹ
ہفتے کا ایک دن طے کریں — کئی لوگوں کے لیے منگل اچھا ہے، کیونکہ ہفتے کے آخر کا رش نہیں ہوتا۔ فہرست عمر کے حساب سے دیکھیں، سب سے پرانے پانچ چنیں، اور انہی کو فون کریں۔ پانچ سے زیادہ نہیں — زیادہ ہوں تو کام بڑا لگتا ہے اور اگلے ہفتے ہوتا ہی نہیں۔
ہفتے میں پانچ کا مطلب سال میں دو سو ساٹھ۔ زیادہ تر چھوٹی دکانوں کے کل ادھار والے گاہک اس سے کم ہوتے ہیں۔