چھوٹی دکان میں حساب کا سب سے عام مسئلہ چوری نہیں، غلط لکھت نہیں — ایک ہی جیب ہے۔
صبح گلّے سے پانچ سو نکلتے ہیں بیٹے کے اسکول کے لیے۔ دوپہر کو دو سو اپنے کھانے پر جاتے ہیں۔ شام کو گھر کے لیے ایک پیکٹ چاول شیلف سے چلا جاتا ہے۔ کچھ بھی غلط نہیں، اور کچھ بھی لکھا نہیں جاتا۔
کیا کیا گڈمڈ ہو جاتا ہے
ایک ہی جیب ہو تو تین الگ سوالوں کے جواب ایک ساتھ کھو جاتے ہیں، اور تینوں ضروری ہیں۔
- دکان واقعی نفع دے رہی ہے یا نہیں — گھر کا خرچ ملا ہو تو بتایا نہیں جا سکتا۔
- آپ خود مہینے میں کتنا لے رہے ہیں — پتا نہ ہو تو زیادہ لے رہے ہیں یا نہیں سمجھ نہیں آتا۔
- اسٹاک ٹھیک ہے یا نہیں — گھر گیا مال نہ لکھیں تو گنتی کبھی نہیں ملے گی۔
کیا کریں تو ٹھیک ہو جائے گا
- 1
اپنے لیے ایک رقم طے کریں
مہینے میں کتنا آپ کا ہے، یہ پہلے ہی طے کریں۔ عدد کوئی بھی ہو، ہونا چاہیے۔
- 2
مہینے کے ایک دن وہ نکالیں
تنخواہ کی طرح۔ روز تھوڑا تھوڑا لیں تو حساب نہیں رکھا جا سکتا۔
- 3
درمیان کا پیسہ اسی وقت لکھیں
ضروری کام میں پیسہ لینا ہی پڑتا ہے۔ لیتے وقت ہی ایک سطر — بعد میں یاد نہیں رہتا۔
- 4
گھر گیا مال خرید قیمت پر لکھیں
فروخت کے طور پر نہیں، خرچ کے طور پر۔ پھر اسٹاک بھی ملے گا اور نفع کا حساب بھی صحیح رہے گا۔
اس سے کیا بدلتا ہے
پہلے ہی مہینے ایک بات صاف ہو جاتی ہے — آپ خود دکان سے مہینے میں ٹھیک کتنا لے رہے ہیں۔ زیادہ تر دکاندار اس عدد کا اندازہ لگاتے ہیں، اور اندازہ تقریباً ہمیشہ حقیقت سے کم ہوتا ہے۔
عدد کا پتا ہونا بری بات نہیں۔ پتا ہو تو فیصلہ کیا جا سکتا ہے — اس مہینے کم لوں گا، یا دکان سے زیادہ آنا چاہیے۔ پتا نہ ہو تو کوئی فیصلہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔