Skip to content
Khataby Lacspace
دکان چلانا

دکان کا پیسہ اور گھر کا پیسہ الگ رکھیں

ایک ہی جیب سے دکان کا مال اور گھر کا سودا — دونوں ہوں تو مہینے کے آخر میں کون سا کہاں گیا بتانا ناممکن ہے۔

5 منٹ کا مطالعہ

دکان کا پیسہ گھر کا نہیںدکان کا پیسہ گھر کا نہیںدکانگھرالگ رکھیں

مختصراً

  • دکان کا پیسہ اور اپنا پیسہ ایک جگہ ہو تو کوئی حساب صحیح نہیں رہتا۔
  • اپنے لیے پیسہ لینا غلط نہیں — اسے نہ لکھنا ہی مسئلہ ہے۔
  • ہر مہینے اپنے لیے ایک مقررہ رقم نکالیں، تنخواہ کی طرح۔
  • گلّے سے پیسہ نکالیں تو اسی وقت خرچ کے طور پر لکھیں۔

چھوٹی دکان میں حساب کا سب سے عام مسئلہ چوری نہیں، غلط لکھت نہیں — ایک ہی جیب ہے۔

صبح گلّے سے پانچ سو نکلتے ہیں بیٹے کے اسکول کے لیے۔ دوپہر کو دو سو اپنے کھانے پر جاتے ہیں۔ شام کو گھر کے لیے ایک پیکٹ چاول شیلف سے چلا جاتا ہے۔ کچھ بھی غلط نہیں، اور کچھ بھی لکھا نہیں جاتا۔

ایک ہی جیب ہو تو مہینے کے آخر میں کسی سوال کا جواب نہیں ہوتا۔دو الگ جگہیں — دکان کا پیسہ، گھر کا پیسہ، بیچ میں ایک دیوار۔دکان کا پیسہ گھر کا نہیںدکانگھرالگ رکھیں
ایک ہی جیب ہو تو مہینے کے آخر میں کسی سوال کا جواب نہیں ہوتا۔

کیا کیا گڈمڈ ہو جاتا ہے

ایک ہی جیب ہو تو تین الگ سوالوں کے جواب ایک ساتھ کھو جاتے ہیں، اور تینوں ضروری ہیں۔

  • دکان واقعی نفع دے رہی ہے یا نہیں — گھر کا خرچ ملا ہو تو بتایا نہیں جا سکتا۔
  • آپ خود مہینے میں کتنا لے رہے ہیں — پتا نہ ہو تو زیادہ لے رہے ہیں یا نہیں سمجھ نہیں آتا۔
  • اسٹاک ٹھیک ہے یا نہیں — گھر گیا مال نہ لکھیں تو گنتی کبھی نہیں ملے گی۔

کیا کریں تو ٹھیک ہو جائے گا

  1. 1

    اپنے لیے ایک رقم طے کریں

    مہینے میں کتنا آپ کا ہے، یہ پہلے ہی طے کریں۔ عدد کوئی بھی ہو، ہونا چاہیے۔

  2. 2

    مہینے کے ایک دن وہ نکالیں

    تنخواہ کی طرح۔ روز تھوڑا تھوڑا لیں تو حساب نہیں رکھا جا سکتا۔

  3. 3

    درمیان کا پیسہ اسی وقت لکھیں

    ضروری کام میں پیسہ لینا ہی پڑتا ہے۔ لیتے وقت ہی ایک سطر — بعد میں یاد نہیں رہتا۔

  4. 4

    گھر گیا مال خرید قیمت پر لکھیں

    فروخت کے طور پر نہیں، خرچ کے طور پر۔ پھر اسٹاک بھی ملے گا اور نفع کا حساب بھی صحیح رہے گا۔

اس سے کیا بدلتا ہے

پہلے ہی مہینے ایک بات صاف ہو جاتی ہے — آپ خود دکان سے مہینے میں ٹھیک کتنا لے رہے ہیں۔ زیادہ تر دکاندار اس عدد کا اندازہ لگاتے ہیں، اور اندازہ تقریباً ہمیشہ حقیقت سے کم ہوتا ہے۔

عدد کا پتا ہونا بری بات نہیں۔ پتا ہو تو فیصلہ کیا جا سکتا ہے — اس مہینے کم لوں گا، یا دکان سے زیادہ آنا چاہیے۔ پتا نہ ہو تو کوئی فیصلہ کیا ہی نہیں جا سکتا۔

عام سوالات

دکان میری ہی ہے، اپنا پیسہ کیوں نہ لوں؟

لیں گے ہی — سوال لینے کے بارے میں نہیں، لکھنے کے بارے میں ہے۔ آپ گلّے سے دو ہزار نکالیں اور وہ کہیں لکھا نہ ہو، تو مہینے کے آخر میں دکان کے حساب میں دو ہزار کم دکھیں گے، کیونکہ وہ ہیں ہی نہیں۔ تب لگتا ہے کہ فروخت گھٹ گئی یا کہیں گڑبڑ ہوئی۔ پیسہ لینا مسئلہ نہیں، پتا نہ ہونا مسئلہ ہے۔

الگ کیسے کریں؟

سب سے آسان طریقہ یہ ہے کہ مہینے میں ایک بار اپنے لیے ایک مقررہ رقم نکال لیں، بالکل جیسے ملازم کو تنخواہ دیتے ہیں۔ درمیان میں پیسہ چاہیے ہو تو وہ بھی لیں، مگر ہر بار لکھیں۔ بینک کھاتہ الگ رکھ سکیں تو اور بھی اچھا، مگر وہ نہ کریں تب بھی لکھ کر رکھنے سے بیشتر مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔

گھر کا سودا دکان سے لیں تو؟

وہ بھی لکھیں، خرید قیمت پر۔ دکان سے اپنے گھر کے لیے تیل، چاول لینا بہت عام بات ہے، مگر نہ لکھیں تو اسٹاک کا حساب نہیں ملے گا — بہی میں مال ہوگا، شیلف پر نہیں۔ مہینے کے آخر میں وہ چوری جیسا لگتا ہے، چاہے ہے نہیں۔

کھاتہ ایپ مفت ہے

بلنگ، اُدھار کھاتہ، اسٹاک اور رپورٹیں — سب آپ کے فون پر۔ کارڈ نہیں، منسوخ کرنے کو کچھ نہیں۔

دیکھیں آپ کو کیا ملتا ہے

خرچحسابنقد

آگے پڑھیں

تمام مضامین