"آج کتنی فروخت ہوئی؟" — دکان میں سب سے زیادہ پوچھا جانے والا سوال یہی ہے، اور اس کا جواب تقریباً کچھ نہیں بتاتا۔
دو دکانیں ایک ہی دن پچیس ہزار کی فروخت کر سکتی ہیں۔ ایک کے ہاتھ چار ہزار بچتے ہیں، دوسری کے اٹھارہ سو۔ باہر سے دونوں دکانیں ایک جیسی چلتی لگتی ہیں۔
تین عدد، ایک ہی مال
ہر مال کے ساتھ تین عدد جڑے ہوئے ہیں: آپ نے کتنے میں خریدا، کتنے میں بیچ رہے ہیں، اور فرق کتنا ہے۔ پہلا نہ لکھیں تو تیسرا نکالا نہیں جا سکتا۔
پیسہ کہاں سے آ رہا ہے
مہینے میں ایک بار ایک سادہ فہرست بنائیں — کس مال سے کل کتنا بچا۔ فروخت کی مقدار نہیں، جو بچا اس کا حساب۔
| مال | مہینے کی فروخت | فی عدد بچت | کل بچا |
|---|---|---|---|
| چاول (5 کلو) | 180 پیکٹ | 12 روپے | 2,160 |
| صابن | 420 عدد | 4 روپے | 1,680 |
| تیل | 90 بوتلیں | 35 روپے | 3,150 |
| بسکٹ | 610 پیکٹ | 3 روپے | 1,830 |
یہاں سب سے زیادہ بکا بسکٹ، اور سب سے زیادہ پیسہ آیا تیل سے — جو اس کا ساتواں حصہ ہی بکا۔ یہ فہرست نہ بنائیں تو آپ کا دھیان بسکٹ پر ہی رہتا۔
کیا زیادہ بکتا ہے یہ آپ کو پتا چل جاتا ہے۔ کیا زیادہ بچاتا ہے یہ حساب کیے بغیر پتا نہیں چلتا۔
اس حساب سے باہر
یہ فرق ابھی آپ کا نفع نہیں۔ اس میں سے کرایہ، بجلی، تنخواہ، آنا جانا — سب جائے گا۔ وہ کسی ایک مال سے جڑے نہیں، اس لیے انہیں الگ سے مہینے کے حساب میں دیکھنا پڑتا ہے۔
پھر بھی یہ قدم پہلے چاہیے۔ مال کا حساب ٹھیک نہ ہو تو مہینے کا حساب کر کے بھی پتا نہیں چلتا کہ نفع کہاں جا رہا ہے۔