ایک مال ختم ہو جائے تو کیا ہوتا ہے یہ سب جانتے ہیں — گاہک واپس چلا جاتا ہے۔ جو کم معلوم ہے، وہ یہ کہ وہ کہاں جاتا ہے۔ وہ ساتھ والی دکان پر جاتا ہے، اور وہاں جا کر دیکھتا ہے کہ جگہ بری نہیں۔
ایک فروخت کھونا چھوٹا نقصان ہے۔ ایک باقاعدہ گاہک کو دوسری دکان دکھا دینا اس سے کہیں بڑا ہے۔
حد کا مطلب کیا ہے
حد وہ مقدار ہے، جس پر پہنچ کر آرڈر کریں تو مال ختم ہونے سے پہلے نیا مال آ جاتا ہے۔ یہ صفر نہیں، اور ہونی بھی نہیں چاہیے — صفر کا مطلب ہے پہلے ہی دیر۔
- 1
دن میں کتنا چلتا ہے دیکھیں
پچھلے مہینے کی فروخت تقسیم کریں۔ اندازے سے نہیں — اندازہ تقریباً ہمیشہ کم ہوتا ہے۔
- 2
مال آنے میں کتنے دن لگتے ہیں لکھیں
آرڈر والے دن سے مال ہاتھ آنے والے دن تک۔ سپلائر جو کہتا ہے وہ نہیں، اصل میں جو لگتا ہے وہ۔
- 3
ضرب دیں، پھر کچھ جوڑیں
دن کی فروخت × دنوں کی تعداد۔ ساتھ دو تین دن زیادہ، کیونکہ دیر ہوتی ہے۔
- 4
عدد لکھ کر رکھیں
یاد رکھنے کی چیز نہیں۔ ایپ میں مال کے ساتھ لکھیں، تاکہ کوئی بھی دیکھے تو سمجھ آ جائے۔
کون سا مال پہلے
سارے مال کی ایک جیسی اہمیت نہیں۔ جو روز چلتا ہے اور جو نہ ملے تو گاہک دوسری دکان جاتا ہے — وہ پہلے۔ جو مہینے میں دو بار چلتا ہے، وہ ختم ہو تو کوئی نہیں جاتا۔
| مال کی قسم | حد چاہیے؟ | کیوں |
|---|---|---|
| روز چلتا ہے، سب لیتے ہیں | ضرور | نہ ہو تو گاہک چلا جاتا ہے |
| روز چلتا ہے، قیمت زیادہ | ضرور | پیسہ بھی پھنستا ہے |
| کبھی کبھار چلتا ہے | ضرورت نہیں | آنکھ کا اندازہ کافی ہے |
| خراب ہو جاتا ہے | حد کم رکھیں | زیادہ رکھیں تو پھینکنا پڑتا ہے |
سپلائر دیر کرے تو
حد طے کرتے وقت سپلائر کا وعدہ نہیں، اس کی عادت پکڑیں۔ جو کہتا ہے دو دن میں دوں گا مگر چار دن لگاتا ہے، اس کے لیے چار دن کا حساب۔ یہ شکایت نہیں، حساب ہے۔
اگر ایک سپلائر مسلسل دیر کرتا ہے اور اس کی وجہ سے آپ کو بہت زیادہ مال روکنا پڑتا ہے، تو اس دیر کی ایک قیمت ہے — وہ آپ کا پھنسا ہوا پیسہ ہے۔ یہ معلوم ہو تو دوسرا سپلائر ڈھونڈنے کا فیصلہ آسان ہو جاتا ہے۔